• A
  • A
  • A
کشمیر: چھ برس میں بجلی پر 28 ہزار کروڑ روپئے خرچ

بھارتی ریاست جموں کشمیر میں پانی کے لاتعداد ذخیروں کے باوجود بھی بجلی کی سپلائی میں کمی ہورہی ہے۔ ریاست میں بجلی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے 28305 کروڑ روپئے میں بجلی کی خریداری کی ہے۔

علامتی تصویر۔


حکومت کی طرف 2017 میں اقتصادی سروے رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2011 اور 12 سے 2017 تک حکومت 28،306 کروڑ روپئے میں بجلی کی خریداری پر خرچ کیے ہیں۔


اعداد و شمار کے مطابق 2011 اور 12 کے دوران مرکزی پاور ڈویلپمنٹ کارپوریشن 3761.52 کروڑ روئے میں بجلی خریدی گئی ہے۔

اسی طرح سے 2012 اور 13 میں یہ اخراجات 4103 کروڑ روپئے ہیں۔ 2013 اور 14 میں 4471.96 کروڑ روپے، 2014 اور پندرہ میں 5153 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

2015 میں اور 16 میں 5293 اور 2016 اور سترہ میں 5524 کروڑ روپئے کی بجلی خریدی گئی ہے۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بجلی کی خریداری سے بجلی کی بلوں میں بجی اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اس دوران ٹرانسمیشن اور تقسیم کاری میں حکومت کی ناکامی سے ریاست کی معیشت کو گہرا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

رپورٹ میں لکھا ہے: 'اگرچہ گچھ حد تک پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کی قلت سے ریاست میں صنعت کو ترقی دینے کے یے ناکافی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی تقسیم کا ہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (اے ٹی & سی) اداروں کو زیادہ تقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔

رپورٹ میں مذید لکھا گیا ہے: 'اس طرح کے بڑے نقصانات کا بنیادی سبب تکنیکی خرابیاں اور پرانی مشینری ہیں نقصانات کو کم کرنے کے لیے بجلی نظام میں اصلاحات کی ضرورت۔ خاص طور پر موجودہ پرانے نیٹ ورک کو تبدیل کنا ضروری ہے۔

حالانکہ حکومت کی کوششوں سے 2014 اور پندرہ میں نقصانات کاتخمینہ 61.30 فیصد لگایا گیا تھا۔ جو 2015 اور سولہ میں 58.82 ہوگیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی یہ ریاست کے لیے مالی اعتبار سے ٹھیک نہیں ہے'۔

20،000 ریاست میں 20000 میگاواٹ بجلی ہاڈرو پاور پروجیکٹ ہونے کے باوجود بھی حکومت مذید خریداری کے لیے کروڑوں روپیے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریاست کی تخمینہ شدہ ہائیڈرو پاور صلاحیت 20000 میگا واٹ ہے، اور ضرف 16475 میگاواٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں چناب بیسن سے 11283 میگاواٹ، جہلم بیسن سے 3084 میگاواٹ، راوی بیسن میں 500 میگاواٹ اور 1608 میگاواٹ سندھ بیسن سے پیدا کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے: 'نشاندہی شدہ صلاحیت میں سے صرف 3263.46 میگاواٹ یعنی 20٪ کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جس میں سے ریاستی سیکٹر میں 1211.96 میگاواٹ، مرکزی سیکٹر میں 2009 میگاواٹ اور نجی سیکٹر میں 42.5 میگاواٹ خرچ کیے جاتے ہیں۔



CLOSE COMMENT

ADD COMMENT

To read stories offline: Download Eenaduindia app.

SECTIONS:

  होम

  राज्य

  देश

  दुनिया

  क्राइम

  खेल

  मनोरंजन

  इंद्रधनुष

  सहेली

  गैलरी

  टूरिज़्म

  اردو خبریں

  ଓଡିଆ ନ୍ୟୁଜ

  ગુજરાતી ન્યૂઝ

  MAJOR CITIES