• A
  • A
  • A
ملک کے لیے شہید ہونے والوں کے ساتھ تو تعصب نہ کریں وزیر اعلی

مجاہد کے اہل خانہ نے بہار حکومت کی جانب سے دئے گیے معاوضے کی رقم لینے سے انکار کردیا ہے۔

فائل فوٹو


ایک جانب مجاہد کے جنازے میں لکھوں افراد موجود تھے تو وہیں دوسری جانب حکومت کے ایک بھی نمائندے نے شرکت کی زحمت نہیں اٹھائی۔


مجاہد کی تجہیز و تکفین کا عمل بدھ کے روز اس کے آبائی گاؤں بہار کے بھوجپور ضلع کے پیرو گاؤں میں فوجی اعزاز کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ اس موقع پر نہ صرف مجاہد کے اہل خانہ بلکہ اطراف کےگاؤں کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ اس ہجوم میں ہندو مسلم سب شامل تھے اگر کوئی نہیں شامل تھا تو حکومت بہار کا کوئی نمائندہ۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مجاہد کے جنازے میں شامل ہونے کے لیے علاقے سے رکن پارلیمنٹ راج کمار سنگھ بھی نہیں پہپنچے۔

اہل خانہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اہل خانہ کے پاس پانچ لاکھ کا چیک لے کر پہنچے جبکہ صرف ایک روز قبل کھگڑیا ضلع کے ہلاک ہونے والے فوجی کے اہل خانہ کو 11 لاکھ کا چیک دیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت بہار کا کہنا ہےکہ حالیہ دنوں میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کو 11 لاکھ جبکہ نیم فوجی دستہ کے جوان کو 5 لاکھ فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حالانکہ ڈی ایم نے مجاہد کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ ریاستی حکومت معاوضے کی رقم میں اضافے کے متعلق غور کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام کی بنیاد پر ملک کے لیے جان دینے والوں کے ساتھ کب تک تعصب برتاجائے گا۔

واضح رہے کہ جموں کے سی آر پی ایف کیمپ میں پیر کے روز ہوئے حملے میں چھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان چھ افراد میں مجاہد بھی شامل تھے۔

ٹی وی چینلوں پر خود کو ملک پرست ثابت کرنے کے لیے چیخ و پکار کرنے والے رہنماؤں میں ایک بھی مجاہد کے آخری سفر میں شامل ہونے نہیں آیا۔ مجاہد کے گھر والوں کو اس بات کا بھی کافی ملال تھا۔

CLOSE COMMENT

ADD COMMENT

To read stories offline: Download Eenaduindia app.

SECTIONS:

  होम

  राज्य

  देश

  दुनिया

  क्राइम

  खेल

  मनोरंजन

  इंद्रधनुष

  सहेली

  गैलरी

  टूरिज़्म

  اردو خبریں

  ଓଡିଆ ନ୍ୟୁଜ

  ગુજરાતી ન્યૂઝ

  MAJOR CITIES