• A
  • A
  • A
ویلنٹائن ڈے کا یہ ہے پس منظر...جڑی ہے کئی کہانیاں

ہر سال 14 فروری کو دنیا کے مختلف حصّوں بالخصوص مغربی ممالک میں "ویلنٹائن ڈے" منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر محبت کرنے والوں کے درمیان مٹھائیوں، پھولوں اور ہر طرح کے تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ نصرانی پادری "ویلنٹائن" کی یاد میں ہوتا ہے جس کے نام کے ساتھ اس دن کو موسوم کیا گیا۔

علامتی تصویر


اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ویلنٹائن ڈے پر مبارک باد کے 15 کروڑ کے قریب کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ کارڈز بھیجنے کے حوالے سے کرسمس کے بعد یہ دوسرا بڑا موقع ہوتا ہے۔


ویلنٹائن ڈے کے پیچھے کیا کہانی ہے... آئیے اس حوالے سے قدیم رومن زمانے سے لے کر وکٹورین دور تک نظر ڈالتے ہیں۔

کیتھولک چرچ کی تاریخ میں کم از کم 3 مختلف افراد ہیں جن کے نام ویلنٹائن یا ویلنٹینوس تھے اور ان تمام نے ہی اپنے نظریات اور اصولوں کی خاطر جان دی۔

ایک داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن پادری نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی ، بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔ جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی۔

تاہم دیگر داستانیں یہ بتاتی ہیں کہ ویلنٹائن کو اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ اس نے مسیحیوں کو رومیوں کی جیلوں سے فرار کروانے میں مدد کی کوشش کی تھی جہاں ان مسیحیوں کو مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

تیسری کہانی یہ ہے کہ جیل میں قید پادری ویلنٹائن کو قید خانے کے جیلر کی کم عمر بیٹی سے محبت ہو گئی جو جیل میں اس سے ملنے آیا کرتی تھی۔ پھانسی پانے سے قبل اس نے جیلر کی بیٹی کو خط لکھا جس کے آخر میں لکھا "تمہارا ویلنٹائن"... یہ واقعہ 14فروری 270ء کا ہے۔ یہ طریقہ بعد میں محبت کرنے والوں میں رواج پاگیا اور وہ آج تک اس دن محبت کے اظہار کے لیے کارڈز کا تبادلہ کرتے ہیں۔

تاہم ان تمام کہانیوں کے باوجود ویلنٹائن ڈے کی حقیقت آج تک پراسرار ہی سمجھی جاتی ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک پریمیوں کا دن منانے کے لیے 14 فروری کی تاریخ اس لیے متعین کی گئی کہ یہ ویلنٹائن کی موت کا دن ہے۔ تاہم ایک دوسری روایت کے مطابق اس کو فروری کے وسط میں منانے کی وجہ یہ ہے کہ رومی 15 فروری کو اپنے ایک دیوتاLupercalia (لوپرکالیہ )کے نام پر سالانہ میلے کا انعقاد کیا کرتے تھے۔

لہذا کلیسا نے اس تاریخ کو ایک نئی مناسبت کے ساتھ مربوط کر دیا اور اسے دیوتا کے تصور سے آزاد کر کے مسیحی پس منظر میں وضع کر دیا۔

روایت کے مطابق Lupercalia میلے میں لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیے جاتے اور مرد بغیر دیکھے جس لڑکی کا نام نکالتے وہ ہی ان کی ساتھی بن جاتی اور بعض مرتبہ شریک حیات بھی !

پانچویں صدی عیسوی کے اختتام پر اس تہوار کو کلیسا کی جانب سے ممنوع قرار دیا گیا اور پاپائے روم پوپ گیلاسئیس (Gelsius) نے 14فروری کے اس بیہودہ تہوار کو "ویلنٹائن ڈے" میں تبدیل کر دیا۔

اگرچہ داستانوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ویلنٹائن نے سب سے پہلے محبت کا رقعہ بھیجا تاہم عوامی سطح پر محبت کی عبارتیں تحریر کرنے کا رواج 1400ء کے بعد شروع ہوا۔

اس حوالے سے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر معلوم سب سے پرانا کارڈ وہ قصیدہ ہے جو 1415ء میں فرانسیسی شاعر چارلس (ڈیوک آف اورلیئنز) نے اپنی بیوی کو اُس وقت لکھ کر بھیجا جب وہ لندن ٹاور میں قید تھا۔




CLOSE COMMENT

ADD COMMENT

To read stories offline: Download Eenaduindia app.

SECTIONS:

  होम

  राज्य

  देश

  दुनिया

  क्राइम

  खेल

  मनोरंजन

  इंद्रधनुष

  सहेली

  गैलरी

  टूरिज़्म

  اردو خبریں

  ଓଡିଆ ନ୍ୟୁଜ

  ગુજરાતી ન્યૂઝ

  MAJOR CITIES