• A
  • A
  • A
دہلی میں اگر انتخابات ہوئے تو پھر بنے گی کیجریوال کی حکومت:سروے

دہلی میں عام آدمی پارٹی (عاپ) کی اروند کیجریوال حکومت کے آج تین سال پورے ہو چکے ہیں۔ اس موقعے پر اے بی پی نیوز اور سی ووٹر نے ایک اوپینین پول سروے کرایا ہے

فائل فوٹو


سروے کے مطابق دہلی والوں پر ابھی بھی وزیراعظم مودی کا جادو برقرار ہے۔ سروے کے مطابق 54 فیصد دہلی والے بطور وزیراعظم مودی کو ہی دیکھنا چاہتے ہیں مگر 50 فیصد لوگ ان کے کام کاج سے خوش نہیں ہیں۔ مطلب پی ایم کےطور پر مودی کی شبیہ ابھی بھی لوگوں پر حاوی ہے۔


سروے کے مطابق اگر ابھی دہلی میں اسمبلی انتخابات ہوئے تو پھر کیجریوال کی ہی حکومت بنے گی۔ 70 ممبران والی دہلی اسمبلی میں عاپ آج بھی اکثریت کے ساتھ حکومت بناسکتی ہے جبکہ بی جے پی کی سیٹوں میں چھ گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ سروے 3 سے 12 فروری کے درمیان کیا گیاہے۔ سروے میں کل 4170 لوگوں نے اپنی رائے دی۔

سروے کے مطابق آج کی تاریخ میں انتخاب ہونے پر یمنا پار کے 20 حلقوں میں سے ‏عاپ کو 10، بی جے پی کو 8 اور کانگریس کو 2 نشستیں مل سکتی ہیں۔ سنٹرل دہلی کی 20 اسمبلی سیٹوں میں سے عاپ کو 11، بی جے پی کو 8 اور کانگریس کو ایک سیٹ مل سکتی ہے۔ بیرونی دہلی کی اگر بات کی جائے تو 30 سیٹوں میں سے عاپ کو 20، بی جے پی کو 9 اور کانگریس کو 1 سیٹ مل سکتی ہے۔

اس طرح 70 ممبران والی اسمبلی میں عاپ کو 41، بی جے پی اور کانگریس کو چار چار سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ووٹ شیئر کے معاملے میں بھی ‏عاپ آگے ہے حالانکہ 2015 کے اسمبلی انتخاب کے مقابلے عاپ کے ووٹ فیصد میں تقریباً 14 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔

سروے کے مطابق موجودہ وقت میں عاپ کو 39.6 فیصد، بی جے پی کو 32.9 فیصد اور کانگریس کو 19.7 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

CLOSE COMMENT

ADD COMMENT

To read stories offline: Download Eenaduindia app.

SECTIONS:

  होम

  राज्य

  देश

  दुनिया

  क्राइम

  खेल

  मनोरंजन

  इंद्रधनुष

  सहेली

  गैलरी

  टूरिज़्म

  MAJOR CITIES